• :

    امن کا راستہ

    ’’امی! ابو کو اس بار آنے میں اتنی دیر کیوں ہو رہی ہے؟‘‘ خیام نے اپنی امی ذکیہ بیگم کی گود سے سر اٹھا کر کوئی چھٹی بار ان پوچھا۔

    ’’تمہیں معلوم ہے نا بیٹا، جنگ کے خطرے کی وجہ سے ائیرپورٹ بند ہیں۔‘‘

    ’’امی یہ جنگ کیوں ہوتی ہے؟اس کا مقصد کیا ہے؟‘‘

    آٹھویں جماعت کے طالب علم کے ذہن میں کئی دنوں سے کلبلاتے سوالوں کی تسلی ان کے مختصر جوابوں سے نہیں ہو رہی تھی۔

    اس نے غور نہیں کیا کہ اس سوال پر ذکیہ بیگم کے چہرے پر غم کا ہلکا سا سایہ لہرانے لگا ہے۔

    انہیں بیساختہ اپنا چھوٹا بھائی طلحہ یاد آگیاتھا جو 1971 کی جنگ میں اسی طرح ماں جی کی گود میں سر رکھ کر ایسے ہی سوال پوچھتا تھا اور ماں جی دھیرے دھیرے انگلیاں اس کے سر میں پھیرتے ہوئے لوری سناتی تھیں۔ وہ الفاظ آج بھی ان کے کانوں میں جیسے گونج رہے تھے :

    بچے مجھ سے پوچھ رہے ہیں
    امی !یہ جنگ کیا ہوتی ہے؟
    کیا اس جنگ میں کھیل کھلونے
    ماں کی گود اور نرم بچھونے
    سب کچھ ہی چھن جاتا ہے؟

    شاید وہ اپنادکھ نہیں بتانا چاہتی تھیں ،اس لیے ایسی آہستہ طرز میں گنگنایا کرتی تھیں کہ اگلے جملوں تک پہنچتے ہوئے اکثر طلحہ سو چکا ہوتااور باقی کے بول ماں جی کے پرسوز دھیمے لہجے خود کلامی کی طرح ہوتے تھے ۔

    بچے ہیں، میں کیا سمجھاؤں
    جنگ کے منظر کیا دکھلاؤں
    جو مجھ سے یہ پوچھ رہے ہیں
    امی یہ جنگ کیا ہوتی ہے؟

    آنسو ان کے جھریوں بھرے رخسار پر موتیوں کی طرح پھسلنے لگتے ۔

    کسی کا جیون چھن جاتا ہے
    کسی کی آنکھیں کھو جاتی ہیں
    روگ عمر کے لگ جاتے ہیں
    باتیں ایسی ہو جاتی ہیں
    ایک شکستہ ناؤ کی مانند
    ہو جاتا ہے جیون ان کا

    ماں جی کے سارے رشتے ہجرت کے دوران ان سے بچھڑ گئے تھے۔ ان کی چھوٹی بہن اور والد کو ان کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا گیا تھا۔

    فرعونِ وقت دہکاتا ہے
    آگ کوئی جنگوں کی صورت
    پھول سے بچوں کو پھر اس میں
    موت تک جلنا پڑتا ہے

    اور جب وہ پاکستان پہنچی تھیں تو کم بیش یہاں بھی یہی کچھ تھا۔ کیسے ان سکھ ہمسائے بچوں کو افراتفری میں فرار ہونا پڑا تھا، اور۔۔۔

    ’’امی بتائیں نا!‘‘

    خیام نے یک بارگی زور سے انہیں جھنجھوڑ ڈالا ۔

    وہ ایک دم جیسے حال کی دنیا میں لوٹ آئیں ۔

    ’’جی بیٹا! ‘‘

    ’’میں پوچھ رہا ہوں آخر جنگ کیوں ہوتی ہے ؟ ‘‘

    ’’جنگ۔۔انہوں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ‘‘

    ’’بیٹا جنگ برائی سے کی جاتی ہے تاکہ امن ہو سکے ۔‘‘

    ’’تو کیا ہم بْرے ہیں؟ ‘‘

    ’’نہیں بیٹا وہ تو۔۔ ۔‘‘

    اس نے بات کاٹ کر پوچھا : کیا ہندوستانی بْرے ہیں؟

    ’’نہیں بیٹا۔۔۔ جو بھی کسی دوسرے پر زیادتی کرتا ہے وہ بْرا ہوتا ہے۔۔۔اور اسی کے خلاف جنگ کی جاتی ہے۔‘‘

    ’’تو پھر امن کیوں نہیں ہوتا ماں؟‘‘

    ’’ایک دن ضرور ہو گا ۔‘‘

    ’’وہ دن کب آئے گا ؟‘‘

    ’حساس دل خیام کے دل کو جنگ کا سوچ کر ہی کچھ ہونے لگا۔

    ’’مجھے ایک بات بتائیں امی ! جس کسی نے بھی پہلی جنگ لڑی تھی وہ امن کے نام پر ہی لڑی تھی نا؟‘‘

    ’’جی بالکل بیٹا ۔‘‘

    ’’اور اس وقت سے لے کر آج تک امن کے نام پر ہی جنگیں چھیڑی جاتی رہی ہیں۔۔ ایسا ہی ہے نا؟ ‘‘

    ’’بیٹا بات یہ ہے کہ۔۔۔ ‘‘

    ’’نہیں امی پہلے میری بات پوری سنیں۔وہ ناراضی سے بولا۔‘‘

    ’’ہمارے بڑوں نے 1857 کی جنگ اسی آس پر لڑی تھی کہ ہماری آئندہ نسل امن کے سائے میں رہے۔ مگر ان کی آئندہ نسل کو اس سے زیادہ بھیانک جنگ عظیم اول لڑنی پڑی، صرف اس آس پر کہ ان کی آئندہ نسل پرسکون زندگی جیے۔۔۔مگر ان کے گمان میں بھی نہ تھا کہ ان جس نسل کو محفوظ کرنے کے لیے وہ لہو بہا رہے ہیں اس نسل کو دوسری جنگ عظیم کا ایندھن بننا ہے۔ہم کس امن کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ماں جو ملتا ہی نہیں ؟ ہم نے پھر فیصلہ کْن لڑائی لڑ کر دھرتی کو چیر کر اپنا حصہ الگ حاصل کیا۔۔ کس لیے؟ صرف امن کے لیے؟ وہی امن جس کے لیے کبھی آپ کا گھر لوٹ لیا جاتا ہے، تو کبھی ماموں جنگ میں شہید ہو جاتے ہیں۔ کچھ ہماری طرف کے یتیم ہو جاتے ہیں، کچھ کلیاں سرحد پار مْرجھا جاتی ہیں۔ کیوں امی ؟

    کہا تو یہ جاتا ہے امن چاہتے ہیں اپنی نسل کے لیے پر یہ کونسا امن ہے جو جوانوں کا لہو پی کر اور بچوں کی امنگوں کا خون کر کے توانا رہتا ہے۔ کیا ہم یونہی امن کے لیے قربانی دیتے رہیں گے۔‘‘

    ’خیام بولنے پر آیا تو بولتا ہی چلا گیا۔

    امی یک ٹک اسے دیکھ رہی تھیں۔

    ہم جنگ اور امن کو صرف بڑوں کی چیز سمجھتے ہیں۔ ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ بچوں پر ان باتوں کا ان حالات کا کیا اثر ہوتا ہے۔

    ’’ادھر آؤ خیام!‘‘

    امی نے بہت پیار سے قریب بلایا ۔

    خیام خاموشی سے اپنی جگہ واپس آکر لیٹ گیا ۔

    ’’بیٹا امن بْرا نہیں ہے۔‘‘

    امی نے اس کے بالوں میں دھیرے سے انگلیاں پھیرتے ہوئے بات شروع کی۔
    ’’ہمارا امن کو ڈھونڈنے کا طریقہ غلط ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ برائی کا مقابلہ کرنے کے لیے بْرائی ہی ضروری ہے۔ہم امن کو طاقت سے مسلط کرنا چاہتے ہیں اور جو طاقت سے مسلط کیا جائے وہ امن نہیں ہوتا۔ دیکھو بْرائی کا وجود بہت طاقت ور ہوتا ہے۔۔اور برائی کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ ہمارے بڑے جھگڑالو اور جنگجو نہیں تھے۔۔ انہیں بھی امن کی اتنی ہی ضرورت تھی جتنی ہمیں ہے۔۔ مگر بیٹا جب بھی امن پھیلنے لگتا ہے تو برائی پھیلانے والے عناصر کو اچھا نہیں لگتا اور وہ خود امن میں ہی پھوٹ ڈال دیتے ہیں۔ اگر ہم حقیقی امن چاہتے ہیں تو ہمیں علم حاصل کرنا اور پھیلانا ہو گا۔اس جدید زمانے میں جنگ ختم کرنے اور آئندہ نسلوں کو محفوظ کرنے کا صرف یہی واحد راستہ ہے۔‘‘

    امی نے بات ختم کی تو دیکھا کہ خیام چہرے پر سکون لئے نیند کی آغوش میں جا چکا ہے۔

  • : Peace Over Violence
Rating: 3.0/5. From 1 vote.
Please wait...
PurAzm Pakistan