دہشت گردی کیخلاف خالی ہاتھ جنگ لڑنے والے باہمت شخص کی کہانی

  • :


    یقینی طور پر سوات میں بہت سی قربانیوں کے بعد آمن بحال ہوئی ہیں ، اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ سکیورٹی فورسز کے علاوہ مقامی غیور سواتی عوام نے انتہاپسندی اور دہشتگردی کی اس تاریک دور کا مقابلہ بڑی دلیری کے ساتھ کیا۔ جس میں حاجی زاہد خان کا نام سر فہرست ہے، بغیر ہتھیار امن کیلئے جنگ لڑنے والے امن کمیٹی کے اس رہنماء کی خدمات توسواتی عوام پہلے سے مانتے تھے لیکن اب حکومت پاکستان نے بھی زاہد خان کی بہادری کا اعترف کیا اور باقاعدہ طور پر اسے تمغہ شجاعت کیلئے نامزد کیا گیا ہے جو اسے 23 مارچ 2019 کو دیا جائے گا، ہم نے بھی چاہا کہ کیوں نہ ان کی زندگی اور جدوجہد کو محب الوطن پاکستانی جوانوں کو بزریعہ ڈکومینٹری سامنے لائیں۔ اس لئے ھم نے چاہا کہ ھم حاجی زاہد خان کو اپنا سبجیکٹ بنا کر اس کو پرعزم پاکستان کی اس بہترین فلیٹ فارم سے پاکستانی عوام کی سامنے لے آیئے۔ میں آپکو مزید زاہد خان کے بارے میں بتانا چاہو گا کہ حاجی صاحب سوات قومی جرگہ کی رہنماء اور ہوٹل ایسوسی اسیشن کا صدر بھی ہے،
    سال 2006 سےلیکر 2009 کے اخر تک خوف اور دہشت کی فضاء میں طالبان کی خلاف بات کرتا ایسا تھا جیسے کہ حاجی صاحب موت کو دعوت دے رہے ہو، لیکن جب دل میں وطن کی محبت اور اپنے لوگوں کی خدمت کا جزبہ ہو تو پھر ملک کے بہادر بیٹے پہاڑوں سے بھی ٹکرانے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔ان بہادر سپوتوں جس میں ایک حاجی زاہد صاحب بھی ہے جس نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیرامن کی بحالی کیلئے پر آمن جنگ لڑی اور اسی وجہ سے حاجی زاہد خان کو طالبان کی جانب سے دھمکیاں ملنا شروع ہوگئی ، اور اخر کار طالبان کی جانب سے اسے قتل کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ تین بار بم دھماکوں کے زریعے اس کے گھر پر حملہ کیا گیا اور آخری بار اس پر بزریعہ پستول فائرنگ کی گئی جس سے حاجی صاحب بری طرح زخمی ہوئے لیکن انکا حوصلہ پست نہیں ہو ا۔ اور پھر بھی وہ طالبان کے خلاف لڑتا رہا ۔یہی وجہ تھی کہ حکومت پاکستان نے اسے تغمہ شجاعت کیلئے نامزد کیا ۔

  • Haji Zahid Khan Documentray
  • : Stop Supporting Extremism
No votes yet.
Please wait...
PurAzm Pakistan