• :

    “سُرخُورو”

    خود بھوکھےليلکن اولاد کا پیٹ 

    بھرنے کےکليلۓپريشان۔۔۔۔خود سردی سے ٹھٹھرتےليکن اولاد کو سردی سے بچانے کيلۓپريشان۔۔۔۔ساۓکی طرح ھميشه صرف ساتھ “والدين”ليکن اس پريشانی کے ہٹاتے ہی معلوم ہوتا ہے اصل دنيا صرف اندھيرےسے زيادہ کچھ نہيں۔

    ميرے والد “محمد رمضان”

    اپنے شوق سے پوليس ميں بھرتی ہوے والد صاحب حب الوطنی کے جز بے سے سرشار تھے وقت گزارتا گيا اور ميں اپنے سکول،کالج کے مراحل سے گزر کر يونيورسٹی تک پہنچ گيا يونيورسٹی جاکے والد صاحب نے داخلہ کروايا اور آئی ٹی کا شعبہ منتخب کيا ميں نے بھی خوشی خوشی والد صاحب کا فيصلے کو قبول کيا اور يونيورسٹی جانے لگا۔۔۔۔ 4 سال کا عرصہ کيسے گزار پتا ہی نہيں چلا ميری گريجوشن کی ڈگری ملنے کا ميرے والد صاحب کو بے حد انتظار تھا ۔۔۔۔ کچھ دوستوں نے مِل کر کراچی جا نے کا ارارہ کيا تو ميں نے والد صاحب سے اجازت لی اور دوستوں کے ساتھ براستہ مستونگ کراچی چلا گیا ۔۔۔گھر فون کیا پہنچ کر کے اطلاع دے دوں خیریت کی تو پتہ چلا کہ گزشتہ رات کچھ مسلح افراد کی جانب سے گھر پر فائرنگ کا واقع ہوا دل بہت پریشان ہوا کیونکہ اس سے پہہلے کے واقعات میں کفن تک پھنکیں گے تھے گھر پر۔۔۔۔ والد صاحب نے مجھے تسلی دی کے ہم ڈرنے والی قوم نہیں ہیں الّٰلہ پر بروسہ رکھو اچانک والدہ اور بہن کی ذمہ داری یاد کروانے لگے ۔۔۔کہنے لگے 9 تاریخ کو صبح واپس آجانا  کیونکہ تمہاری بہن کی سالگرہ ہے وہ بہت انتظار کر رہی ہے تمہارہ۔۔کہا ماں اور بہن کا بہت خیال رکھنا لاپرواہی کی کوئی گنجائش نہيں ہے اور فون بند کر دیا 

    اگلی صبح 9 نومبر 2017 کوئٹہ میں چمن ہاوسنگ کے قریب ایک دھماکہ ہوا اچانک مجھ پر گھبراہٹ کا ایک خوفناک سِلسِلہ تاری ہو گیا اتنے میں فون کی گھنٹی بجی فون اُٹھایا تو اطلاع مِلی کہ آپ کے والد صاحب کی طبعیت ناساز ہے سی ایم ایچ میں منتقل کیا گیا ہے جلد از جلد کوئٹہ پہنچ گاؤ۔۔۔۔میرا دل رو رہا تھا کہ میں یہاں آیا ہی کیوں میرے دوست مجھے تسلی دینے لگے اتنے میں ایک دوست نے سوشل میڈیا پر ایک گاڑی

     کی ہولناک تصویریں دیکھی اور گاڑی بھی وہ جس میں روز میرے والد صاحب ڈی ای جی صاحب کے ساتھ کام پر جایا کرتے تھے دِل کو میں تسلی دی کہ نہیں والد صاحب خیریت سے ہیں الّٰلہ کی امان میں ہونگے یقیناً ۔۔۔۔ اُسی لمہے والد صاحب کو فون کیا پر نمبر بند آرہا تھا تب تو میں نے ایک منٹ بھی ظائع نہیں کیا اور کوئٹہ کیلئے روانہ ہو گیا رو کر الّٰلہ سے دعا کی کہ مالک راستہ جلد گزار دے پریشانی سے دَم نکلنے کو تھا کہ ہم آخرکار 8 گھنٹے کا طویل سفر ختم ہوا اور ہم کوئٹہ کی حدود میں داخل ہو گئے۔۔۔ گھر پہنچا تو ایسے جیسے پاؤں تلے زمین نکل گئ ہو سامنے کا جنازہ ایک تعبُد کی زینت بنا ہوا تھا۔۔۔۔ چیخ پکار ،رش ایک قیامت خیز منظر تھا میرے لیۓ ۔۔فرش پر میں خود اور عرش پر الّٰلہ کی زات مجھے سمنبھالنے کیلۓ کافی تھی میرا دوست ،میرے سر کا سایہ ، میرے والد دہشت گردوں کے ناپاک ارادوں

    کی وجہ سے مہجھ چھین گۓ تھے کسی طرح خود کو سنبھالا اور والد صاحب کی تدفین کی تیاری کی اور قبرستان پہنچتے ہی میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا جس باپ کے کندھوں پر چڑ کر میں کھلتا تھا آج وہ ہی کندھے میرے کندھوں پر سوار ہوکے قبر کی جانب بھڑ رہے تھے ایک آخری دیدار کیا اور پاکستانی جھنٹدے میں لپٹے تعبُد کو قبر کے حوالے کر ديا

    اور گھر کو چل دیا۔۔۔۔گھر پہنچا تو ایک خوبصورت خوشبو سے گھر مہک رہا تھا تو اتنے میں ایک دھمیی سی آواز آئ کے آرے! یہ خوشبو تو شہید کے گھر سے آتی ہے تو اطمینان مہسوس ہوا کہ میرے والد صاحب جامِ شہادت نوش کر کہ دُنیا اور آخرت دونوں میں سُر خُورو ہو گۓ۔۔۔کیونکہ شہید تو کبھی مرتا ہی نہیں  اسی طرح ایمان،اسلام،حوصلے اور حب الوطنی کی جیت ہوئی۔

     

    Writer and story representer: Samia Tareen

    Provenance: Balochistan

    City: Quetta

    University: Balochistan University Information Technology Engineering Management Science

    Department: Mass communication 5th semester

    Topic: Peace over violence

     

  • : Peace Over Violence
Rating: 1.0/5. From 1 vote.
Please wait...