• :

    پروفیسر ہدایت صاحب             

    دہشتگردی ایک عالمی مسلہ ھے اور ۹نومبر ۲۰۰١ کے واقعے کے بعد پوری دنیا میں دہشتگردی پھیل گی اور اس کا مرکز خاص طور پر پاکستان رہا۔ پاکستان میں سب سے ذیادہ متاثرہ علاقہ خیبر پختون خواہ رہا۔

    خیبر پختون خواہ میں تقریباً ٦ ھزار کے قریب واقعات ھوے اور ان میں سے ایک واقعہ مردان نادرا خودکش حملہ بھی ھے۔

    ۲١ دسمبر ۲۰١۵کو دن کے ۵۷۔١ پر نادرا آفس کے سامنے قطار میں کھڑے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کے نتیجے میں ۲۹ افراد شہید جبکہ ٦۰ کے قریب شدید زخمی ھو گے۔

    ان زخمیوں میں سے ایک زخمی پروفیسر ہدایت صاحب بھی تھے۔ جس کا تعلق مردان شنکر سے ھے۔ جو کہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مردان میں پروفیسر ہیں۔

    دھماکے کے دن پروفیسر صاحب اپنے ہمساے کے ساتھ شناختی کارڈ کے مسلے کی لیے ان کے ساتھ نادرا آفس چلے گے اور اس غریب آدمی کی جگہ پے لاين میں کھڑے رھے۔ آفس میں بریک کے بعد جب ۳ منٹ رہ گے اور ھر کویئ لائن میں دوبارہ کھڑا ہونا شروع ھوا تو اچانک زوردار دھماکہ ھوا اور ھر طرف قیامت کا سما نظر آنے لگا۔ پروفیسر صاحب شدید زخمی ھو گے تو کسی نے ان کو رکشے میں بٹھا دیا اور ھسپتال پھنچا دیا۔ تب تک پروفیسر صاحب ہوش و حواس میں تھے اور اسی اثنا میں بھی پروفیسر صاحب نے میڈیا کو پر عزم پیغام دیا۔ اس کے بعد پروفیسر صاحب کی طبیعت خراب ہوتی گی اور بے ہوش ھو گے۔

    کافی عرصہ ھسپتال میں گزارنے کے بعد پروفیسر صاحب کو گھر منتقل کر دیا گیا۔ پروفیسر صاحب کے کہنے کے مطابق ان کے زندگی کے سب سے نا خوش گوار لمحات ان کو اپنے طالبعلموں سے جدایٴ والے دن تھے۔

    پروفیسر صاحب اپنے گھر کا واحد زریعہ آمدن ھیں۔ اور جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت ان کے والد کینسر کے مریض تھے اور وہ اپنے بیٹے کا یہ غم برداشت نہ کرتے ھوے اور آخر کار وہ اس جہان فانی سے رخصت ہو گےٴ۔

    آج کل پروفیسر صاحب کیمیات کے پروفیسر ھیں اور طالبعلموں کو مزید پر عزم کرنے کے لیے دن رات کوشش کرتا رہتا ھے۔

    وہ پھلے سے زیادہ لگن اور ھمت سے کام لے رھا ھے۔ آج کل وہ کالج سے فارغ ھوتے ھی ۳ سے ۴ جگہوں میں مزید پڑھاتے ھیں۔ وہ اپنی زندگی سے بے حد مطمنٴ ھیں۔ اور کہتے ھیں کہ پھلے سے ھزار گنا زیادہ بھتر انداز میں اپنی زندگی گزار رھا ھے۔ کیوں کہ ﷲ تعالیٰ نے اس کو ایک نیٴ زندگی دی ھے۔

    پروفیسر صاحب مختلف معاشی سر گر میوں میں نظر آتے ہیں۔ اور دہشتگردی کے خلاف مہم میں وہ نہایت پر عزم ہیں اور اپنے طالبعلموں کو دہشتگردی کے خلاف حوصلہ دیتے ہیں۔ پروفیسر صاحب ان بچوں کو سبق دیتے ھیں کہ دہشتگردی کرنے والے اچھے لوگ نہیں ھیں اور وہ اسلام کو بد نام کر رھے ھیں کیوں کہ وہ ﷲ کا نام لے کر اس طرح سے دھماکے کر کے سمجھتے ھیں کے ﷲ ان سے راضی ھو گیا اور انہیں جنت میں جگہ دے دے گا لیکن ھر گز ایسا نھیں ھوتا کیوں کے اسلام امن کا درس دیتا ھے اور اس طرح کے واقعات کرنے کی بالکل اجازت نہیں دیتا اور پروفیسر صاحب کا مقصد اس معاشرے سے دہشتگردی ختم کرنا ھے۔

    پروفیسر صاحب نے دہشتگردوں کو کھلے عام چیلنج دیا ھے کہ اگر ان میں ھمت ھے تو دوبارہ اس طرح کا واقعہ کر کے دکھایں کیوں کے پروفیسر صاحب نے ٹھان لیا ھے کے اگر بچوں کو صحیح تعلیم دی جاےٴ تو پھر دہشتگرد کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ لیکن خدا نخواستہ اگر انھوں نے اس طرح کی کویٴ سر گرمی کی یا بے گناہ لوگوں کو شہید کرنے کی کوشش کی تو وہ اور کے طالبعلم سب سے پھلے شہادت کے لیے آگے آیں گے۔

    والسلام۔

    پاکستان زندہ باد۔

  • : Resilience Against Violence
Rating: 5.0. From 3 votes.
Please wait...