• :

    میں محافظ ہوں 
    کراچی ، پاکستان کا ایک خوبصورت اور مصروف ترین شہرہے ۔ بحیرہ عرب سے متصل یہ شہر بانیِ پاکستان کی زندگی میں ان کا مسکن رہااور بعد از وفات مدفن ۔ کراچی نہ صرف تجارتی اعتبار سے پاکستان کے لیے اہمیت کا حامل ہے بلکہ دفاعی اعتبار سے پاک بحریہ کی اہم تنصیبات بھی اسی شہرِ قائد میں موجود ہیں ۔ شاہراہِ فیصل پر واقع ، پی این ایس مہران بیس پاک بحریہ کی اہم ترین تنصیبات میں سے ایک ہے اورپاک بحریہ کے فضائی طاقت کا یہ ہیڈ کوارٹر مانا جاتا ہے ۔ ملک میں دہشت گردی کا عفریت اپنے پر پھیلائے ہوئے تھا اور چہار جانب موت کا رقص جاری تھا ۔یہ ۲۲ مئی سن ۲۰۱۱ء ، موسم بہار کی ایک خاموش رات تھی ۔اسی رات پاکستان بحریہ کی پی این ایس مہران بیس میں جدید ہتھیاروں سے لیس دہشت گرد بیرونی دیواروں پر لگی خاردار باڑ کاٹ کرداخل ہو گئے ۔دہشت گرد اپنی پوری تیاری سے آئے تھے ۔ پی این ایس مہران کے اندرونی نقشہ سے واقفیت کی بنا پر انھیں اپنے حدف کا بخوبی اندازہ تھا ۔دہشت گرد براہ راست بیس میں موجود جہازوں کی جانب بڑھے ۔وہ راکٹوں سے اس بیس میں حملہ آور ہوئے اور دو امریکی ساخت کے درآمد شدہ قیمتی طیارے تباہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔دہشت گردوں کا بنیادی حدف پاک بحریہ کو کشیر نقصان سے دوچار کرنا تھا ۔
    لیفٹینٹ یاسر عباس پاک بحریہ کا پچیس سالہ نوجوان ، جو اس وقت کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا ، دہشت گردوں اور ان کے عزائم کے درمیان حائل ہو گیا۔یاسر عباس شہید نے شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں پر فائر کھول دیا ۔ دہشت گردوں نے بھی جوابی کاروائی کرتے ہوئے فائر نگ کی ۔اس طرح پاک بحریہ کے جوانوں اور دہشت گردوں کے درمیان باقاعدہ جھڑپ کا آغاز ہوگیا۔ پاک بحریہ کے جوانوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے لفٹینٹ یاسر عباس کی سرکردگی میں بیس کو مزید کسی نقصان سے بچا لیا ۔اگرچہ اس حملہ کو پاک بحریہ کے خلاف ایک بڑا حملہ قرار دیا جاتا ہے تاہم اس حملہ میں دہشت گرد دو جہاز تباہ کر پائے ۔ لفٹینٹ یاسر عباس اور دیگر سیکورٹی اہلکار اس بیس کو مکمل طور پر تباہ ہو نے سے بچانے میں کامیاب ہو گئے ۔
    لفٹینٹ یاسر عباس اپنے فرض کی ادائیگی میں کوئی کسر نہ چھوڑتے ہوئے دشمنوں کے سامنے سینہ سپر ہو گئے ۔ تین گولیا ںیاسر شہید کے سینے پرلگیں۔اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اور اپنی عرفیت کے مطابق انھوں کسی چیتے کی طرح دہشت گردوں سے مقابلہ کیا اورجان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہ کیا ۔دہشت گردی کے اس حملہ میں اٹھارہ افراد بالشمول پاک بحریہ ، رینجرز اور عام آدمی کے شہید ہوئے جبکہ چار دہشت گرد ہلاک ہوئے ۔
    لفٹینٹ یاسر عباس نے سات سال تک پاک بحریہ کے لیے اپنی خدمات سر انجام دی ۔ ان کی خدمات اور پی این ایس مہران پر حملے کے موقع پر شجاعت کے عظیم مظاہرے کے اعتراف میں انھیں نشانِ حیدر جیسے اعلیٰ فوجی اعزاز کے لیے بھی نامزد کیا گیا ۔ان کے کارنامے کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا ۔ 
    واضع رہے کہ جب تک لفٹینٹ یاسر عباس جیسے نوجوان پاکستان کی سر زمین میں موجود ہیں اس وقت تک پاکستان کے خلاف ہونے والی ہراندرونی وبیرونی سازش ناکام ہوتی رہے گی۔پاکستانی افواج کی شجاعت کی مثالیں تاریخ میں زریں الفاظ سے لکھی جائیں گی ۔
    لفٹینٹ یاسر عباس اور ان جیسے دوسرے نوجوانوں کے لیے ایک نظم 
    ہاں ہاں میں اک سپاہی ہوں
    جو اپنی ماں سے دور کہیں 
    اس دھرتی ماں کو بوسہ دے 
    ہاں ہاں میں اک سپاہی ہوں 
    اے میرے دیس کے فرزندو
    تم امن و سکوں سے سوجاو
    میں ہر دم ہوں بیدار یہاں 
    ہاں ہاں میں اک سپاہی ہوں 
    کہہ دو یہ میری بہنوں سے 
    ہر اک ردا کا ضامن ہوں 
    ہاں ہاں میں اک سپاہی ہوں 
    پاک وطن پر جاں جو دوں 
    مت رونا میرے گھر والو!!
    میں راہِ حق کا راہی ہوں 
    ہاں ہاں میں اک سپاہی ہوں


    از طرف : میمونہ صدف ہاشمی 
    پتہ : مکان نمبر سی بی ۱۰ ، عزیز کالونی 
    دھمیال روڈ ، راولپنڈی 
    رابطہ : ۵۱۷۷۱۰۲۔۰۳۳۶

  • : Resilience Against Violence
Rating: 4.5/5. From 4 votes.
Please wait...