• : کل ہی کی بات ہے،  اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تھی اور میرے جلووں کو آنکھوں میں بھرا تھا۔ اس کی پرورش میں نے دل سے کی تھی۔ وہ میرے دل اسی طرح سمایا ہوا تھا جس طرح پیڑ اور پہاڑ۔ اس کرہ ارض میں اربوں انسان رہتے ہیں اور جو بھی بوتا ہے مجھ میں پیڑوں کی بیج بوتا ہے۔  پر اس مرتبہ کس نے یہ نفرت کا بیج بو دیا؟ قصہ ہے ایک بھورے بھیل کا جو درویشوں اور صوفیوں کی دھرتی سندھ میں جنم لیتا ہے۔ غریب گھرانے میں جنم لینے والا میرا بھورا، زندگی کی تلخیوں سے خوب نمٹتا ہے۔  وہ اس قدیم مذہب سے تعلق رکھتا ہے جس نے ہزاروں برس قبل اس دھرتی سے جنم لیا ۔  وہ زندگی کی اذیتیں جھیلنیں میں مشغول تھا کہ ایک سیاہ شب میں گاڑیوں میں تصادم اس کی سانس چھن گئی۔ وہ میرے پاس لوٹنے آیا تھا، وہ سندھو ندی کی پاک بھورا میرے مقدس بدن میں سمانے آیا تھا۔ اس کے گھر والوں نے اس دن میری گود بھردی، مجھے بھورا دے دیا۔ پر یہ کون ہیں، یہ پیار کے  دشمن، امن کے دشمن،  میری گود سے میرے بھورا کو نکالا گیا۔ اس شب بھورے کی تدفین کے بعد ئی اس کی لاش چند انتہاپسندوں نے قبر سے باہر اٹھا پھینکی ، صرف اس لئیے کہ یہ قبرسان مسلمانوں کا ہے اور بھورا بھیل ہے۔ بھورے نے میری کوکھ سے جنم لیا تھا،  اور آخر میں سے سکون کیلئے اس نے میری کوکھ میں جگہ مانگی۔  یہ کونسا مذہب کہتا ہے کہ ماں سے اسکا بچا چھینوں؟ ہر مذہب جب  پیار اور امن کا درس دیتا ہے تو پھر یہ نفرت کی آگ بڑھکانے والے کون ہیں۔ سب ہی انسان میرے بچے ہیں اور میں انکی ماں۔ سب نے میری کوکھ سے جنم لیا ہے اور سب کو میرے پاس آنا ہے۔  مینے تو انسان پیدا کیئے تھے، یہ مذہبی تفریق کہاں سے آگئی؟ میری انسان ذات التجا ہے کہ مجھے میرا بھورا واپس کردو۔۔۔ مجھے میرا بھورا واپس کردو۔۔۔
  • : Stop Supporting Extremism
No votes yet.
Please wait...