• :

    محراب

    (یہ کہانی حقیقی زندگی کے کرداروں سے اخذ کی گئی ہے)

    نام تو اس کا اظہر تھا، مگر گھر والے پیار سے اجُّو کہہ کر بلاتے۔ آج مسلسل ساتویں روز اجو نے ایڑھی کے بل کھڑے ہو
    کر آئینہ دیکھا تھا۔ یہ کوئی ایسی نئی بات بھی نہ تھی۔ اجُّو کے تو سب کام ہی نرالے ہوتے، مگر صبح اٹھتے ہی صحن کی دیوار پر آویزاں آئینہ دیکھنے کا کام کافی مختلف تھا۔

    کوئی ایک ہفتہ پہلے کی بات ہے۔ اجُّو اپنے دوست کے ساتھ ا سکول سے واپس گھر آ رہا تھا کہ موچی کی دکان سے گزر ہوا۔

    یہ موچی بابا کے ماتھے پر ایسا گہرا نشان کیوں ہے؟ لگتا ہے کسی نے سیاہی مل دی ہو۔‘‘ اجُّو ہنسا۔’’

    اجُّو! موچی بابا کا مذاق مت اڑاؤ۔‘‘ محمود نے فوراََ اسے ٹوکا۔’’

    ‘‘یہ دراصل محراب کا نشان ہے۔ جو بندہ بہت نیک ہو اور خوب نمازیں پڑھے، اس  کے ماتھے پر یہ نشان بن جاتا ہے۔’’

    ہمممم۔۔۔ اب میں سمجھا۔‘‘ اجُّو نے لمبا سانس کھینچا۔’’

    یوں ایک ہفتہ تک اجُّو نے اپنی طرف سے خوب نیکی کے کام کئے۔

    ’’میں نے پورا ہفتہ نمازیں پڑھیں؛ اپنا جیب خرچ فقیروں میں بانٹا؛ سڑک پر بکھرے ہوئے چھلکوں اور پتھروں کو کنارے پرکیا۔۔۔ مگر پھر بھی میرے ماتھے پر محراب کا نشان نہیں بنا۔ آخر ایسا کیوں ہے؟‘‘

    کافی دیر سوچنے کے بعد اسے یہ سمجھ آیا کہ اس کی نیکیاں خدا نے قبول نہیں کیں۔ یہ سوچ کر اجُّو کا ننھا سا دل ٹوٹ کر رہ گیا۔

    اگلی صبح اٹھنے پر اس نے آئینے کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا اور خاموشی سے ناشتے کے بعد اسکول چلا گیا۔

    واپسی پر اسے خیال آیا کہ کیوں نہ اس سلسلے میں براہ راست موچی بابا سے ہی بات کر لی جائے۔

    السلام علیکم، بابا۔ کیا حال ہے؟‘‘ اجُّو نے لکڑ کی پیڑھی پر بیٹھتے ہوئے گفتگوکا آغاز کیا۔’’

    ’’وعلیکم السلام، بیٹا۔ اوپر والے کا کرم ہے۔ اور ویسے بھی جب تم جیسا پیارا بچہ مجھے سلامتی کی دعا دے گا، تو خدا مجھ پر اپنی رحمت نازل کرے گا ہی۔‘‘ موچی بابا نے شفقت بھرے لہجے میں کہا اور اجُّو شرما سا گیا۔

    اچھا بابا، اب میں چلتا ہوں۔‘‘ جانے کیوں اجُّو کو موچی بابا سے بات کرنے کی ہمت ہی نہ پڑی۔’’

    ‘‘ہاں بیٹا، جلدی سے اپنے گھر پہنچو۔ اچھے بچے راستے میں ٹھہرا نہیں کرتے۔ دیر ہو جائے، تو گھر والے پریشان ہو جاتے ہیں۔’’

    اُس شام اجُّو کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا ، جب اسے پتا چلا کہ اگلے روز بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم ولادت کی وجہ سے ملک بھر میں عام تعطیل ہے۔

    رات کو کھانے کی میز پر جب دادی اماں نے اجو کے والد سے کہا کہ وہ صبح موچی بابا کو مبارک دے آئیں، تو اجُّو کے کان کھڑے ہوگئے۔

    ‘‘بڑی ماں! کس چیز کی مبارک ؟’’

    اجُّو! کل موچی بابا کی عید ہے، اس کی مبارک باد۔‘‘ دادی اماں نے کہا۔’’

    اجُّو یہ سنتے ہی اچھل کھڑا ہوا۔

    کل عید ہے اور میرے نئے کپڑے بنے ہی نہیں؟‘‘ اجُّو نے شور مچا دیا۔’’

    اجُّو، تُو تو بالکل ہی گاؤدی ہے۔ کل ہماری نہیں، بلکہ موچی بابا کی عید ہے۔‘‘ دادی اماں بولیں۔’’

    ‘‘مگر عید تو سب کے لئے ایک ہی ہوتی ہے۔ یہ کیسی عید ہے جو ہماری نہیں، بلکہ صرف اُن کی ہے؟’’

    ’’بیٹا، جس طرح ہم اپنی عید مناتے ہیں، اسی طرح ہمارے مسیحی بھائی بھی اپنی عید مناتے ہیں۔ مگر ان کی عید ہر برس ۲۵ دسمبر کو ہوتی ہے کیونکہ یہ حضرت مسیح علیہ السلام کی تاریخ ولادت ہے۔ ‘‘

    سات سالہ اجُّو کا ذھن بری طرح الجھ گیا۔

    ’’اگر وہ مسلمان نہیں، تو وہ نماز بھی نہیں پڑھتے ہوں گے۔ مگر محمود تو کہہ رہا تھا کہ جو بہت نمازیں پڑھے، یہ نشان صرف ان کے ماتھے پر بنتا ہے۔ تو کیا دادی اماں غلط کہہ ہی ہیں؟ مگر وہ تو کبھی جھوٹ نہیں بولتیں۔ ‘‘

    انہی سوچوں میں گم اجُّو سونے کے لئے لیٹ گیا۔ مگر وہ رات تو گویا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھی۔ آدھی رات کو اس کی آنکھ کھل گئی اور موچی بابا سے ہونے والامکالمہ اس کے دماغ میں گونجنے لگا۔

    ’’وعلیکم السلام، بیٹا۔ اوپر والے کا کرم ہے۔ اور ویسے بھی جب تم جیسا پیارا بچہ مجھے سلامتی کی دعا دے گا، تو خدا مجھ پر اپنی رحمت نازل کرے گا ہی۔‘‘

    اجُّو سوچ رہا تھا کہ موچی بابا نے سلام کا جواب ویسا ہی دیا ہے، جیسے سب مسلمان دیا کرتے ہیں، اور خدا کا ذکر بھی بالکل ویسا ہی کیا ہے، جیسے سب مسلمان کرتے ہیں۔ پھر حیرت ہے کہ وہ خود مسلمان نہیں، اور سب سے بڑی الجھن یہ کہ ان کے ماتھے پر محراب کا نشان کیوں ہے؟

    ‘‘اے میرے خدا! یہ کیا بھید ہے؟ تجھے تو پتا ہی ہو گا۔ تو پھر تو مجھے بھی سمجھا دے۔’’

    :اجُّو نے دعا مانگی اور اچانک اس کے من میں کوئی آواز سی گونجنے لگی

    ’’ہاں موچی بابا مسلمان نہیں مگر اجو! خدا صرف مسلمانوں کا ہی نہیں، بلکہ اس کائنات میں پائے جانے والے تمام انسانوں کا رب ہے۔ وہ سب کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہے۔اور جو بھی اس کی مخلوق سے محبت کرتا ہے، وہ اسے ضرور پسند کرتا ہے اور اسے اپنے آئینے میں محراب کا نشان بھی ضرور نظر آتا ہے۔‘‘

    آواز مدھم ہوتی چلی گئی۔ اجُّو نے خود سے عہد کیا کہ وہ اپنی زندگی مخلوق خدا کی خدمت میں وقف کر دے گااور تمام انسانوں سے، بھلے ان کا کوئی بھی رنگ، نسل، زبان، عقیدہ اور قومیت ہو، محبت کرے گا۔ پھر تصورہی تصور میں وہ اپنے دل کے آئینے میں جھانکنے لگا۔ اسے وہاں محراب کا نشان پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا دکھائی دیا۔ پھر اس نے مسکراتے ہوئے آنکھیں موند لیں اور نیند کی آغوش میں چلا گیا۔


    تحریر: نیر آفاق

    نوٹ: یہاں اسے پی ڈی ایف فائل کی صورت میں نوری نستعلیق فونٹ میں پڑھا جا سکتا ہے۔

  • : Interfaith Harmony
Rating: 3.0/5. From 2 votes.
Please wait...
PurAzm Pakistan