دب گئی سسکیاں کچھ تیرے گفتار سے

  • :

    تیسری بیٹی ہونے پر شوہر نے گھر سے نکالا تو بھائی کو بھی میرے حصہ لینے کی فکر لاحق ہونے لگی۔ اکیلی عورت کو تو کوئی کرائے پر رکھنے کو بھی تیار نہیں ہوتا۔ ایک دور کے رشتہ دار نے خدا ترسی میں مدد کرنا چاہی تو لوگوں نے ایسی ایسی باتیں بنائیں کہ ماجد بھائی بھی کمرا دھونڈ دینے کے بعد دوبارہ نہ آئے۔ میری سلائی سے گھر تو پہلے بھی چلتا تھا لیکن کمرے کا کرایہ نکالناناممکن تھا۔ ان پڑھوں کو کوئی اور کام تو ملتا نہیں اس لئے بڑی بیٹی کو ایک کوٹھی میں کام کے لئے بھیج دیا۔
    آج بیٹی سے اچانک ملنے گئی تو اسکا نیل سے بھرا جسم دیکھ کر میرا دل چیر کے رہ گیا مالکن گھر نہیں تھی۔ میں بیٹی کو ساتھ ہی لے آئی۔ گھر آئی تو مالک مکان کا بیٹا میری چھوٹی بیٹی پر جھپٹنے کی کوشش کررہا تھا۔ شور مچا۔ ہنگامہ ہوا۔ میں کمزور لہذا میں قصوروار۔ ہمیں گھر چھوڑنا پڑا۔ بے سہارا عورتوں کے ایک ادارے کا پتا تھا تو بچیوں کو لے کر وہاں چل دی۔ راستے میں کچھ احتجاج ہو رہا تھا شاید ۔ مکان مالک کی بیٹی اور کوٹھی والی میم بھی تھی وہاں۔ معلوم ہوا "عورت مارچ" ہے۔ عورتوں کے حقوق کے لئے؟ میرے جیسیوں کے لئے؟
    فرط جذبات میں میرے قدم بھی مارچ کی جانب بڑھ گئے۔
    ایسا لگ رہا تھا جیسے وقت تھم گیا ہو اور میرے بیتے برس اس ہجوم میں کھڑی میرے ہی جیسی خواتین کے پیچھے سے جھانک رہے ہوں۔ کتنے ہی درد تھے ،کتنی ہی اذیت تھی ،ظلم تھے ،جبر تھے ، جنہیں آج تک بے بسی اپنے آنچل میں چھپائے بہلانے کی کوشش کرتی رہی تھی ۔مگر آخر کب تک؟
    کبھی توہمیں آواز بلند کرنی تھی۔ کبھی تو اپنے لئے ،اپنی بچیوں کے لئے بولنا تھا۔ اور اس وقت تو موقع بھی تھا کہ سینکڑوں کی یکجان آواز تنہا کی آہ و بکا سے بلند ہوتی ہے۔ اسی امید کے سہارے کہ ہمارے کرب آج نظر انداز نہیں کئے جا سکتے،
    ہماری سسکیاں آج ان سنی نہیں کی جا سکتیں۔
    میں اور میرے جیسی کئی اور مائیں، بہنیں ، بیٹیاں وہاں موجود تھیں۔ مارچ ہوا، دن ڈھلا اور سب اپنے اپنے زخموں کی نمائش کے بعد واپس ہو لیے۔
    ڈھلتا سورج جن جذبات کو دیکھتے ہوئے رخصت ہوا تھا صبح جب اسی امید سے طلوع ہوا تو دنگ رہ گیا۔ مارچ کا تمام تر مرکز چند متنازعہ اور انتہا پسند جملوں کی نذر ہوچکا تھا۔ ایک گروہ سینکڑوں پر بازی لے گیا تھا۔ چند جملے ہزاروں مظالم پر آسیب کی طرح حاوی ہو گئے تھے۔ اور اتنے سالوں بعد بھی میرے جیسی مظلوم عورتیں اپنے حق کے لیے بول کر بھی نہ بول سکیں ہماری آواز پھر دب گئی۔

  • : Stop Supporting Extremism
Rating: 5.0/5. From 1 vote.
Please wait...