• :

    رمضان کا مہینہ تھا، کوئٹہ میں میں اور میرے دوست انٹری ٹیسٹ کی تیاری میں تھے۔ چوں کے ہم طالب علم تھے تو اکثر باہر مفت کی افتاری کرتے تھے۔ افتاری میں بہت دور سے غریب اور مفلس لوگ بھی ہمارے ساتھ ہی ہوتے تھے ہماری طرح۔

    ہر افتار میں سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ پانی اور شربت بہت ہی جلد ختم ہوتی تھی۔ پھر ہم وہاں سے نکلتے اور روم پہنچ کر پانی پی لیتے تھے۔

    رمضان کے دو روزے گزرنے کے بعد جب بھی ہم راستے میں آتے، تو دو بچے جن کے ہاتھ میں ایک کولر ہوتی تھی، ہمیں بلاتے تھے اور کہتے تھے کہ انکل شربت پئیں گے؟ ہم کیوں نہ پیتے؟ روزہ ہوتا تھا اور پیاسے بھی بہت تھے تو ہم روز ان بچوں سے شربت پیتے تھے۔

    ہماری ان بچوں سے اچھی دوستی بننے لگی۔ پھر ایک دن میں نے جوں ہی شربت کا گلاس لیا، میں نے پوچھا! اچھا بچوں بتاؤ آج کس کا روزہ تھا؟  جواب ملا کسی کا بھی نہیں۔ میں نے پھر پوچھا ارے بھائی اتنے ثواب کما رہے ہو تو روزہ کیوں نہیں رکھتے؟

    ایک بچے نے بہت ہی محصوم انداز میں کہا! انکل ہم تو ہندو ہیں۔

    اس دن احساس ہوا وہ بچے ہم سے بڑے تھے۔

  • : Interfaith Harmony
Rating: 5.0/5. From 1 vote.
Please wait...