• :

     

    “TEXT STORY FOR PURAZM PAKISTANAWARDS”

     

    “PEACE OVER VIOLENCE”

     

    A TRIBUTE TO APS MARTYRS

     

    Title: Hamein Agay Hi Jana Hai

     

    Submitted By: Javeria Tahir

                  Sana Bakht

                        Bisma Rafique

                        Erham Ahmed

     

     

     

     

     

     

    A TRIBUTE TO APS MARTYRS

    Title : "Hmen Agay Hi Barhna Hai       ہمیں آگے ہی جانا ہے"

    SCRIPT:   

    سنا  ہے بہت سستا ہے خون وہاں کا

    اک بستی جسے لوگ پاکستان کہتے ہیں۔

    قوموں کی زندگی میں عروج و زوال آتے رہتے ہیں۔ خوشی کے واقعات بھی ہوتے ہیں سانحات بھی ہوتے ہیں۔ حادثات و واقعات زمانہ حال میں ہوتے ہیں اور پھر وہ زمانہ ماضی کا ایک قصہ بن جاتے ہیں۔ زندہ اور بیدار قومیں ان واقعات کو یاد رکھتی ہیں اور مستقبل میں اس سے سبق لیتی ہیں۔

    پاکستان ایک ایسی قوم ہے جس کی تاریخ میں حادثات و سانحات کی بھر مار ہے۔ اور ان حادثات کو نہ یہ قوم بھولی ہے نہ بھول پاۓ گی- بد قسمتی سے دہشتگردی ان واقعات میں سر فہرست ہے۔ اور ہم دہشتگردی کے اس سمندر میں غرق ہوتے چلے جا رہے تھے۔

    2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہوۓ حملے نے جہاں دنیا میں امن کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا وہیں پاکستان میں دہشتگردی کا ایسا بیج بویا جس کی جڑیں وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتی چلی گئیں۔

    11/9 کے اس واقعے نے پاکستانی مسلمان قوم کو دنیا کی نظروں میں دہشتگرد بنا دیا۔ اور اس کا خمیازہ پاکستانی قوم کو اپنے خون سے بھرنا پڑا۔

     

    کیسی بخشش کا سامان ہوا پھرتا ہے

    شہر سارا ہی پریشان ہوا پھرتا ہے

    اک بارود کی جیکٹ اور نعرہ تکبیر

    راستہ خلد کا آسان ہوا پھرتا ہے  

    جہاں دنیا نے مسلمانوں کو دہشتگرد ہونے کا خطاب دیا وہیں ان نام نہاد مجاہدین نے مندر مسجد اور گرجا گھر کا فرق نہ دیکھا اور کئی مذہبی عبادت گاہوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جن میں داتا دربار، بری امام، بیتھل میموریل چرچ، آل سینٹ چرچ پشاور شامل ہیں۔

    دہشتگردی کے اس ناسور نے جہاں عام عوام کو نشانہ بنایا وہاں اس سے فل پروف سیکیورٹی میں رہنے والے ہمارے سیاستدان بھی نہ بچ سکے۔ ہمارے عظیم لیڈر جیسے بے نظیر بھٹو، سراج رئیسانی اور بشیر بلور جیسی شخصیات بھی دہشتگردی کا شکار ہوۓ اور اپنی جان گواہ بیٹھے۔

    (نیوز رپورٹ)۔۔۔۔۔

    نیشنل کاؤنٹر ٹیرر اتھارٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف سال 2014 میں پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات کی تعداد 1823 ہے جن میں 1700 جانوں کا ضیاع ہوا اور 2800 افراد زخمی ہوۓ- دہشتگردی کا کل واقعات سے ہونے والا معاشی نقصان کا تخمینہ 126 بلین ڈالر ہے۔

    دہشتگردی کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا بلکہ ا س کی لپیٹ میں پاکستان کی ننھی کلیاں بھی آ گئیں۔

    مٹی کی محبت میں ھم آشفتہ سروں نے

    وہ قرض اتارے جو واجب بھی نہیں تھے

    16 دسمبر کی وہ بد نصیب صبح جو ہمارے آنگن کی کئی کلیوں کو مرجھاگئ اور کئی گھروں کی مسکان چھین کر لے گئی۔

    کس کو پتا تھا کہ جو بچے گھر سے سکول کے لیے نکلے تھے ان کی کبھی واپسی نا ھوگی، جو علم کی راہ پر نکلے تھے وہ شہادت کی راہ پر چل نکلیں گے۔ کس کو پتا تھا کے جن معصوموں کا آج  سکول میں پہلا دن تھا وہ ان کی زندگی کا آخری دن بن جاۓ گا۔ 16 دسمبر کا بدنصیب سورج اس ناقابل فراموش غم کو اپنے ساتھ لے کر طلوع ہوا۔ 

    16 دسمبر 2014، وہ دن تھا جب پشاور کے آرمی پبلک سکول  سے دکھ کی ایسی لہر اٹھی جس نے کچھ ہی لمحوں میں پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا-

    اے پی ایس  پشاور میں 16 دسمبر کی صبح اسلحے سے لیس 7 حملہ آوروں نے اپنے ناپاک قدم رکھے اور اپنی وحشیانہ حرکت سے پورے سکول کو خون میں نہلا دیا-

    (فائرنگ کی آواز)۔۔۔۔

    ان کا مقصد سکول میں موجود بچوں کو یرغمال بنانا یا ڈرانا نہیں تھا بلکہ ان معصوموں کو تڑپا تڑپا کے مار دینا تھا ۔ اس حرکت سے وہ ہمارے ملک میں خوف و حراس پھیلانا چاہتے تھے۔

    خون بہتے ہوۓ جب ماں کو پکارا ہو گا

    کس قدر کرب و اذیت کا نظارہ ہو گا

    دیکھ کر لاش پھول کی ماں نے

    کیسے صبر کا خار اپنے کلیجے سے اتارا ہو گا

    خولہ ان شہید ہونے والے طالب علموں میں سے سب سے کم عمر تھی جو سکول کے پہلے دن اپنی آنکھوں میں ڈھیروں خواب سجاۓ گھر سے نکلی تھی۔ اسکی ماں نے اس کو تیار کرتے ھوۓ یہ کب سوچا تھا کہ اسکے سکول کا پہلا دن اسکے سکول اور زندگی کا آخری دن بن جائے گا اور وہ کبھی اپنی پری کو دوبارہ نہ دیکھ پائیں گی۔ محمد شہیر خان، باسط علی  سردار، ملک تیمور، احمد خان، یاسر اقبال سمیت 142 کہانیاں، یہ 142 کہانیاں ھر آنکھ کو اشکبار کر دیتی ہیں۔

    (نغمہ۔ بڑا دشمن بنا پھرتا ہے)۔۔۔

    سنت فرعون ادا ھوئی ہے اسلام کے نام پر

    جنت بٹ رہی ہے یہاں بچوں کے قتل عام پر

    آج کے فرعون اور نمرود یہ سفاک دہشتگرد ہیں جو ہماری نسل نو کو ختم کر کے پاکستان کے مستقبل کو تاریک کرنا چاہتے تھے۔

    استاد کا درجہ روحانی باپ کا ہوتا ہے یہ تو ہم اکثر پڑھتے ہیں لیکن آرمی پبلک سکول کے اساتذہ نے اس کو سچ ثابت کیا۔ سکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ھوۓ دشمن کے سامنے ڈٹ گئیں اور اپنے طالب علموں کی حفاظت کی کوشش کرتی رھيں یہاں تک کہ وہ ان ظالموں کے ظلم کا نشانہ بنی اور عہد وفا نبھاتے نبھاتے امر ھو گئیں۔

    دہشتگردوں کی سفاکی کا یہ  عالم تھا کے بچوں کے سامنے ان کے  اساتذہ کو جلایا گیا اور قتل کیا گیا۔ ان ننھے ذہنوں کو اس شدت کی اذیت کا سامنا کرنا پڑا جو کرنے کی ھمت شاید ھم نہ رکھتے ھوں۔ یہ ایک ایسا واقعہ ھے جس سے فرش کے ساتھ ساتھ عرش بھی کانپ اٹھا ھوگا۔ دہشتگردوں کی یہ شرمناک سفاکیت انسانیت کے ماتھے پر ایک داغ ھے۔ لوگ اپنے پیاروں کے جنازے تو اٹھا لیتے ھیں مگر 2014 کو اٹھاۓ جانے والے وہ جنازے کندھوں پر بہت بھاری پڑے۔

    اس واقعے نے کئی والدین سے ان کے جگرگوشوں کو جدا کر دیا۔ یہ سانحہ پوری پاکستانی قوم کی آنکھیں نم کر گیا اور دل دہلا گیا۔

    دشمن نے لاکھ کوشش کی قوم کے روشن مستقبل کو تاریک کرنے کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ اے پی ایس کے پرعظم اور بے خوف و نڈر بچوں نے اس ہولناک حادثے کے ایک ماہ بعد ہی اپنی تعلیمی سرگرمیاں شروع کر کے ان دشمنوں کے منہ پر کاری ضرب لگائی۔ اس حادثے نے والدین اور بچوں کے دلوں پر گہرا اثر کیا مگر علم کی شمع جلاۓ رکھنے کی لگن نے اس خوف کو مات دے دی۔

    (نغمہ ۔ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے)۔۔۔

     ان بچوں کا حوصلہ و جوش قابل داد ہے جنہوں نے اس سانحے میں زخمی ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مضبوط رکھا اور اسی سکول میں دوبارہ اپنا تعلیمی سلسلہ شروع کیا۔

    اس سانحے نے جہاں کئی معصوم جانیں لیں وہیں اس سے ہمارے سیاستدان اپنی ذاتی رنجشیں  بھلا کر یکجا ہو گئے۔

     وزیر اعظم نواز شریف نے تمام سیاسی جماعتوں کے تعاون سے نیشنل ایکشن پلان جاری کیا۔ تمام جماعتیں ایک نقطے پر اکٹھی ہوئیں۔

    (وزیراعظم نواز شریف کا بیان)۔۔۔

    دشمن کے دلوں میں اپنا خوف بٹھانے کے لئے حکومت پاکستان نے دہشتگردی کے مجرموں کی سزاۓ موت پر سے پابندی ختم کر دی اور دہشتگردی کے مقدمات کے فوری فیصلوں کا حکم دیا۔ حکومت کے دہشتگردی کے خلاف اٹھاۓ جانے والے اقدامات قابل تحسین ہیں۔

    اس واقعے کے فورا بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ہنگامی بنیاد پر افغانستان کا دورہ کیا اور افغان حکومت سے اس حملے کے سہولت کاروں کی پاکستان حوالگی کا مطالبہ کیا۔ 

    اے پی ایس سانحے میں دہشتگردوں نے جس درندگی کا مظاہرہ کیا اس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔

    اس اندوہناک سانحے پر پوری دنیا سے تعزیتی پیغامات آۓ، وہیں ایک دہشتگرد تنظیم القائدہ نے بھی معصوم جانوں کے ضیاع پر بھر پور مذمت کرتے ہوۓ کہا "ہمارے دل اس دکھ سے چھلنی ہیں۔"

    یورپی یونین ، چین، برطانیہ اور دیگر ممالک سے بھی تعزیتی پیغامات اور امداد آئیں۔ اس سفاکانہ حملے کی گونج بار ڈر پار بھی پہنچی۔ "اس دکھ کی گھڑی میں ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں" ،بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی ٹویٹ میں کہا۔ اور

     #انڈیا ود پاکستان ٹویٹر پر ٹرینڈ بن گیا۔

    پاک آرمی نے پشاور سانحے کے بعد ضرب عضب کے ماتحت فوری طور پر خیبر ایجنسی اور وادی ترہ میں دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کامیاب آپریشن کئے۔

    اس آپریشن میں پاک فضائیہ نے بھی تحریک طالبان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے میں پاک فوج کا بھر پور تعاون کیا۔

    1965 کی جنگ کے بعد ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب عوام کا مورال بلند کرنے کے لئے ترانے لکھے اور گاۓ گئے۔

    ( نغمے— ہم آخری حد تک جائیں گے، تم زندہ ہو)

    حکومت پاکستان نے اے پی ایس اٹیک کے شہداء کو تمغۂ شجاعت اور ستارہ امتیاز سے نوازا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ آرمی کے نوجوان جو اس سانحے میں بچوں کو بچاتے ہوۓ شہید ہوۓ ان کو بھی ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ حکومت نے کئی سکول شہداء اے پی ایس کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا۔

    اس حادثے کے بعد ملک بھر کے تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کو بڑھایا گیا اور بچوں کی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے اساتذہ اور بچوں کے لئے ٹریننگ سیشنز کا آغاز کیا۔

    دہشتگردی کی اس جنگ کا مقابلہ کرنا سیاسی و فوجی قیادت اور عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھا۔ جس قوم کو تعلیم سے محروم کر دیا جاۓ وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ دشمن ہمارے تعلیمی اداروں پر حملہ کر کے ہمیں خوفزدہ کرنا چاہتا تھا۔ مگر ہم نے اپنے ننھے شہیدوں کی قربانی رائگاں نہ جانے دی۔ ہم نے وہی سکول پھر آباد کئے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔

    اے پی ایس کی چوتھی برسی پر یہ قوم عہد کرتی ہے کہ آج اور آگے بھی دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کا مقابلہ کرنے کے لئے یہ قوم بے خوف و خطر تیار ہے۔

    چلے گا چال دشمن جو اسے ناکام بنانا ھے

    دشمن کا کام ہے بھٹکانا منزل سے دور ہٹانا ہے

    ہمارا ہے یہی مقصد ہمیں آگے ہی جانا ہے

    ہمیں آگے ہی جانا ہے۔

    ( نغمہ۔ ہمیں آگے ہی جانا ہے)۔۔۔

  • : Peace Over Violence
No votes yet.
Please wait...