کیا یہ بھیانک رات ٹل سکتی ہے؟

  • :

    جس دن میں پولیس ٹریننگ سنٹر میں آیا۔ بہت خوش تھا۔ مجھے بھی شوق تھا اور پھر ماں بھی تو یہی چاہتی تھی کہ اس کا بیٹا فوجی بنے یا پولیس میں بھرتی ہو جائے۔ اس کا یہ خواب بھی پورا ہو گیا تھا۔ پولیس کی وردی میں دیکھ کر اسے بہت خوشی ہوتی تھی۔ اب وہ میرے سر پر سہرا سجا دیکھنا چاہتی تھی۔ بے چارے کتنی ہی سختیاں جھیل کر مجھے پولیس کی ٹریننگ دلوا رہے تھے کہ بیٹا پولیس میں بھرتی ہو جائے تو پھر یہ ساری پریشانیاں کہاں یاد رہیں گی۔ ابھی تو بس میری ٹریننگ پوری ہونے کا شدت سے انتظار تھا۔ یہاں کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سینٹر میں میرے ساتھی بھی بہت اچھے تھے۔ ہم مختلف شہروں سے پانچ سو کیڈٹس یہاں ٹریننگ لینے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ کوئی چمن سے تھا، کوئی تربت سے اور کسی کا تعلق پنجگور سے تھا۔ یہ تربیت اتنی آسان تو نہ تھی۔ لیکن دوستوں کے ساتھ اچھا وقت گزر رہا تھا۔ واپس جا کر میں نے بطور پولیس اہلکار اپنے فرائض سرانجام دینا تھے۔ لیکن یہاں گزرے ان دنوں کو میں بھلانے والا نہیں تھا۔ ہم نے یہاں صرف ٹریننگ ہی نہیں لی تھی بلکہ اپنے وطن کے دفاع کی تیاری کرتے کرتے کچھ خوبصورت سی یادیں بھی جی لی تھیں۔

    اب پڑھنا لکھنا تو تھا نہیں۔۔ یا تو ٹریننگ کرنی تھی یا پھر دوستوں کے ساتھ کچھ شرارتیں۔میرے دوست کہتے تھے کہ تجھے ہمیشہ میس میں کھانے کے دورانہی سب الٹی حرکتیں کیوں سوجھتی ہیں؟؟ میں ہمیشہ یہی کہتا تھا کہ بھائی ٹینکی فل ہو جائے تو میں ایکشن میں آ جاتا ہوں اور پھر سب کھلکھلا کر ہنستے تھے۔

    آج رات بھی سب دوست اکٹھے بیٹھے تھے۔ موسم میں بھی ہلکی ہلکی خنکی تھی اور اس بدلتی رت میں مجھے گھر کی بھی بہت یاد آ رہی تھی۔ ذرا سی ٹھنڈی ہوا کیا چلتی، ماں رات کو گرم دودھ کا پیالہ ہاتھ میں تھما کر کہتی کہ یہ پی لے، اچھی نیند آئے گی۔ اب جب ماں کی یاد آ گئی توکہاں جلدی نیند آنی تھی، میں بھی دوستوں میں جا کر بیٹھ گیاکہ اچانک گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے پھر سے کچھ سوچنے کا موقع نہ دیا۔ سب اٹھ کر بھاگے۔ فائرنگ کی آواز قریب آ رہی تھی یا میں اسی سمت بھاگ رہا تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ شور وغل میں کسی کی آواز سنائی دی۔ حملہ ہو گیا ہے!! اور بھگدڑ مچ گئی، پھر زوردار دھماکا ہو گیا۔ شاید قیامتِ صغریٰ تھی۔ اور پھر ایسا لگا جیسے میرا دل پھٹ گیا ہو۔ ہر طرف خون ہی خون تھا۔ اتنی تکلیف تھی کہ برداشت کرنا محال تھا۔ پتا نہیں مجھے کیا ہوا تھا۔ زبان پر کلمہ طیبہ تھا اور نگاہیں سب ساتھیوں کو ٹٹول رہی تھیں۔ میرے سب ساتھی وہیں پڑے تھے۔ خون میں لت پت۔شاید یہ میری آخری سانسیں تھیں اور سانسوں کی یہ ڈور بھی کٹ رہی تھی۔ ماں کا چہرہ آنکھوں کے سامنے تھا۔ ہاں میں شہید ہونا چاہتا تھا لیکن مقابلہ کرتے ہوئے، کسی نامعلوم بزدل دشمن کے اندھے حملے میں نہیں۔۔ ذہن میں بس ایک ہی دھندلا سا خیال تھا کہ جب میری میت دیکھے گی تو ماں کی کیا حالت ہو گی اور شاید اب میں ابدی نیندسونے جا رہا تھا۔

    میرے اور میرے ساتھیوں کے شہید ہونے کے بعد وہی ہوا جو ہمیشہ سے ہوتا آ رہا ہے۔ وزیرِ اعظم، سیاسی قیادتوں، آرمی چیف اور ساری دنیا نے سانحے کی مزمت کی۔ میڈیا پر صفِ ماتم بچھ گیا۔ سول سوسائٹی نے شمعیں روشن کیں۔ تین روزہ سوگ منانے کا اعلان بھی ہو گیا۔ لیکن کیا وہ بھیانک رات بدل سکتی ہے یا ہمارے خاندان پر ٹوٹی قیامت کو روکا جا سکتا ہے؟ کیا ہم واپس آ سکتے ہیں؟ کیا اب دوبارہ کسی معصوم کو کسی ایسے ہی المناک سانحے کا شکار ہونے سے بچا لیں گے؟ اگر سانحہ پشاور کے بعد ہی سوگ منانے کے ساتھ ساتھ ان سب سوالوں کا جواب بھی تلاش کر لیا ہوتا تو شاید آج میں اپنے دوستوں کے ساتھ اپنی ٹریننگ مکمل کر رہا ہوتا اور میری ماں سکتے کی حالت میں نہ ہوتی۔

  • : Peace Over Violence
No votes yet.
Please wait...