بڑا دشمن بنا پھرتا ہے,جنگ تھی برپا دشمن اسلحے سے لیس تھا

  • :

    جنگ تھی برپا دشمن اسلحے سے لیس تھا

    بڑا دشمن بنا پھرتا ہے

    تین سال قبل سورج پشاور کیلئے روشنی کی بجائے سیاہ تاریخ لے کر نمودار ہوا۔۔اس دن کچھ مسلح دہشت گردوں نےصرف آرمی پبلک اسکول پرحملہ نہیں کیا بلکہ کئی ماؤں کے لختے جگر چھین لیے۔ بچوں پرگولیاں برسائیں۔۔سہانے مستقبل کے خواب دل میں لئے ننھے بچوں کو ہمیشہ کے لئے سلادیا۔

     

    16 دسمبر2014کی صبح کسی کو کیا معلوم تھا کہ پشاور پر قیامت ٹوٹنے والی ہے ۔۔ ماؤں نے بچوں کو چوما سر پر تپتپی دیتے ہوئے پشاور کے آرمی پبلک اسکول بھیج دیا۔۔اسمبلی ہوئی بچوں نے ترانہ پڑھا اس کے بعد تمام بچے اپنی پڑھائی میں مصروف ہوگئے۔۔ اچانک زور دار دھماکا ہوا۔۔بچے سہم گئے۔۔ اساتذہ نے بچوں کو زمین پر لیٹ جانے کوکہا کہ اچانک اسکول کے اندر گولیوں کے تڑتڑاہٹ نے بچوں کو مزید خوفزدہ کردیا۔۔مسلح دہشت گردوں نے اسکول میں داخل ہوتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔۔دہشت گرد ایڈیٹوریل ہال میں گھس کر وہاں موجود بچوں کوچھلنی چورکرنا شروع کردیا۔۔

     

    دہشت گردوں نے ہال میں ہینڈ گرنیڈ پھنکے اور چند منٹوں میں ہال کی خشک زمین کو بچوں کے خون سےسرخ کردیا۔۔ ہر طرف خون ہی خون دکھائی دینے لگا۔۔چیخ وپکارکی آوازیں گھونجنےلگی۔۔زخمی بچے مدد کے لیے تڑپ نے لگے۔۔ دہشت گروں نےسن کے ان سنی کردی۔۔۔والدین جوانوں اورننھی کلیوں کی لاشوں کو اٹھا کر گھر لاتے رہے ۔۔ پشاور میں ہرطرف دکھ کا عالم تھا۔۔ ہر گلی محلے سے شہیدوں کے جنازے اٹھے۔۔ آرمی پبلک اسکول کے افسوسناک سانحہ میں پرنسپل اوراساتذہ سمیت 132 معصوم بچوں نے جام شہادت نوش کیا ۔۔

     

    16 دسمبر 2014 کو پشاورمیں ایک جانب دہشتگرد آگ برستا بھاری بھر کم اسلحہ سے لیس تھا۔ مگر دوسری طرف معصوم قلم،کتاب سمیٹے ہوئے تھے۔۔ایک جانب ہٹے کٹے بزدل دہشت گرد۔۔تو دوسری جانب معصوم ننھے بچے۔۔ظلم کی انتہاء ہوئی اورانسانوں کے روپ میں جانور پھولوں پر بارود سے یلغار ہوئے اور 145 سے زائد گلوں کو چمن سے اجاڑ پھینکا۔۔۔

    بچے مایوس نہیں ہوئے۔۔۔ ہمت نہیں ہاری دوبارہ کھڑے ہوئے دہشتگردوں کو نظم کی صورت میں منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا ’’میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے ڈرتا ہے بڑا دشمن بنا پھرتا ہے‘‘۔

     

    16دسمبر کو آرمی پبلک اسکول میں سفاک دہشتگردوں کا نشانہ بننے والے بچوں میں شہید عمار اقبال بھی شامل ہیں۔اپنے والدین کو ہمیشہ کیلئے روتا چھوڑ کرعمار اقبال شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوگئے جنہیں دہشت گردوں نے سر میں گولی مارکر شہید کردیا تھا۔عمار اقبال اپنے چھوٹے بھائی ثمیر اقبال کے ساتھ ہی اسکول گیا تھا۔۔۔لیکن شام کوجنازے میں انکی لاش گھرآئی۔آنکھوں میں فوجی آفیسر بنے کے خواب سجائے عمار اقبال کوکیا پتہ تھا کہ یہ دن اُنکی زندگی کا آخری دن ہوگا۔۔سولہ دسمبر کو صبح صحیح سلامت آرمی پبلک سکول جانے والے عمار اقبال کے والدکو اُنکی لاش سی ایم ایچ سے خون میں لت پت ملی جنہیں سر میں گولی مارکر شہید کردیا گیاتھا۔۔

     

    دلخراش سانحہ میں بارہ سالہ شہید اسد عزیز بھی دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔۔سولہ دسمبر کی صبح اسد عزیز کو اسکول جانے کی بہت جلدی تھی معصوم کلی ناشتہ کئے بغیر ہی اسکول کے لیے گھر سے نکل گیا اور چند گھنٹوں بعد خون میں لت پت لاش گھر آئی تو والدین پر تو جیسے آسمان ٹوٹ پڑا۔۔اسد عزیز کو گھر والوں سے بچھڑے تین سال تو ہوگئے مگر اسکی یادیں آج بھی اسکے گھر کی دیواروں میں زندہ ہیں۔۔آرمی پبلک اسکول واقعہ کو تین سال کا عرصہ بیت گیا ۔۔لیکن اس کا غم آج بھی پاکستان کے باسی نہیں بھولے۔سانحہ میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے بارہ سالہ اسد عزیز بھی شہید ہواتھا۔۔مصوم پھول کی یادوں سے مزئن کمرہ آج بھی ویسا ہی ہے مگرکمی ہیں توصرف اسد عزیز کی۔۔۔

     

    اس افسوس ناک سانحہ میں غازی محمد طلحہ علی بھی سفاک دہشت گردوں کی فائرنگ کانشانہ بنا۔۔غازی محمد طلحہ علی کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا اسکول پر حملے کا مقصد بچوں کو تعلیم سے محروم کرنا تھا جو اپنی اس سازش میں کامیاب نہ ہوسکے۔۔ دہشت گروں نے محمد طلحہ علی پر کئی گولیاں برسائی جس سے اسکا چہرہ شدید متاثر ہوا۔۔حملے کے تین سال بعد بھی غازی طلحہ کے خواب چٹانوں کی طرح مضبوط ہیں ۔۔ کہتےہیں کہ دہشت گردوں کا مقصد بچوں کو تعلیم سے محروم کرنا تھا مگر بچوں کے بہادری کے سامنے انکے تمام عزائم کو شکست ہوئی۔۔اعلی تعلیم حاصل کر کے قلم اور علم کے ذریعے سے تعلیم دشمن عناصر سے بدلہ لینا محمد طلحہ کی زندگی کا مقصد بن گیا ہے۔۔

     

    سانحہ آرمی پبلک سکول کے حملہ میں تیرہ سالہ شہیر بھی شہید ہوا۔۔جو اپنے والدین کی آنکھوں کا تارا تھا۔۔۔علی الصبح شہیرکو اسکول جانے کی جلدی تھی۔۔ ذہین اورہونہار شہیر کو دہشت گردوں نے دل پر گولی مار کے قتل کیا۔۔

    شہیر پڑھ لکھ کر آٹو موبائل انجیئنربننا چاہتا تھا۔۔مگردہشت گردوں کی بربریت کانشانہ بنا اور اپنے ارمان دل میں ہی لئے دنیا فانی سے چلا گیا۔۔

    آرمی پبلک اسکول پرحملہ کرکے دہشت گردوں نے بچوں سے علم کی شمع چھینے کی کوشش کی مگر شہیرسمیت دیگر ننھے بچوں نے اپنا خون بہا کر علم کےعلوم کو گرنے نہیں دیا۔۔

     

    سولہ سالہ شہید مبین شاہ آفریدی خود کوتعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے اور ڈاکٹربننے کی خواہش دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئی۔۔ آرمی پبلک اسکول میں شہید ہونے والے طالب علم اور ماں باپ کے اکلوتے بیٹے نے بہترتعلیم حاصل کرکے ماں وباپ کا نام روشن کرنے کی خواہش کی تھی۔۔۔قرآن مجید کے سترہ پارے حفظ کرنے والامبین، اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے پانچ وقت کی نماز پڑھنے کے عہد پرعمل بھی کرتا تھا۔۔ جبکہ شہید مبین شاہ کے والدین اپنے اکلوتے بیٹے کے احساسات کویاد کرنے کیلئے اُس کے کھلونوں پردل بہلاکروقت گزارنے پرمجبور ہیں۔۔شہید مبین شاہ آفریدی اپنے آبائی علاقے تیراہ میں اسپتال بنانے کی خواہش تو اپنے دل میں ہی لئے ہوئے اس دنیا سے چلا گیا لیکن اُس کے والدین اُس کی اس خواہش کو پورا کرنے کیلئے بے تاب ہیں۔۔

     

     

    آرمی پبلک اسکول واقعے میں حکومتی کارکردگی سے مایوس والدین نےعدالت کا رخ بھی کیا۔۔شہید بچوں کے والدین نے ایف آئی آر کے صحیح اندارج اورجوڈیشل انکوائری کیلئے پشاور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی ہوئی ہیں۔۔جوکہ گذشتہ دو سالوں سے التواء کا شکار ہیں۔۔سولہ دسمبر 2014 پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کی رپورٹ حکومتی دعوﺅں کے برعکس منظرعام پر نہ لائی جا سکی۔۔ حکومتی اقدامات سے مایوس اے پی ایس شہدا کے والدین نے انصاف کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکایا اور پشاور ہائی کورٹ میں واقعے کی ایف آئی آر کی درستگی اور جوڈیشل انکوائری کیلئے الگ الگ رٹ پٹیشن دائر کردیے۔۔۔

     

    گزشتہ تین سالوں میں آرمی پبلک اسکول سمیت تین تعلیمی اداروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔۔جس کے بعد تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی اقدمات نہ ہونا صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے؟

    دہشتگردوں نے مزید دو تعلیمی اداروں باچا خان یونیورسٹی اور پشاور کے زرعی تربیتی مرکز کو بھی نشانہ بنایا جس میں بھی طلبا اساتذہ اورسیکیورٹی پر مامور اہلکار لقمہ اجل بنے۔۔دہشتگردوں کی جانب سے پے در پے حملوں کے باوجود تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی آج تک سوالیہ نشا ن بنا ہوا ہے۔۔مسلسل سافٹ ٹارگٹ بننے والے تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کیلئے حکومت اگر ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ عملی اقدامات بھی کرے تو اسطرح کےحملوں کی روک تھام ہوسکتی ہے۔۔سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد تیار ہونے والے  نیشنل ایکشن پلان کو تین سال مکمل ہو گئے۔۔اب تک کس کو انصاف ملا اورحکومت کتنی سنجیدہ ہے؟

  • : Peace Over Violence
No votes yet.
Please wait...